غزل - وطن پیارا وطن
ہر رنگ ہے حسین گلُوں سے سجائیں گے اپنے وطن کو رشکِ اِرم ہم بنائیں گے وہ خواب رہ گئے ہیں جوتعبیرکے بغیر ہم اُن تمام خوابوں کی تعبیر پائیں گے قُربانیوں سے بھی نہ کریں گے کبھی دَریغ اِس کیلئے ہم اپنے دل و جاں لُٹائیں گے جو راہنما ہمارے محبِ وطن نہیں اب اور ہم فریب میں اُن کے نہ آئیں گے آپس میں بن کے شِیر و شکر اب رہیں گے ہم اِک دوسرے کا خُون نہ ہرگز بہائیں گے ...