غزل - زُلفوں کی سیاہی
مُڈبَھیڑ ہوئی اپنی اک دن کسی راہی سے
دیکھا تھا اسے ہم نے دُز دِیدہ نِگاہی سے
چہرے کی دل آویزی ہے مدّنظر جتنی
اتنی ہی محبت ہے زُلفوں کی سیاہی سے
پایا ہے سکوں دل نے قُربت میں تری ورنہ
تڑپا ہوں جُدائی میں بڑھ کر کسی ماہی سے
دریائے محبت ہے اِک آگ نہ تم کھیلو
ورنہ یہ ملا دے گا تم بھی تباہی سے
دیوار میں چنُوایا یا دار پہ کھنچوایا
کب عشق مگر ہارا ہےعظمتِ شاہی سے
ہنستے ہوئے پیتے ہیں ساغر جو شہادت کا
روکے گا انھیں کوئی کیا حق کی گواہی سے
آپس میں عداوت ہے یہ کیسی حماقت ہے
ہے کون جو یہ پوچھے مِلّت کے سپاہی سے
اے ظلم و ستم والے انجام سے ڈر ورنہ
فرمان نہ ہو صادر دربارِ الہی سے
لو فردِ عمل غوری پوشیدہ نہیں اُن کی
چہرے بھی ہوئے کالے اب دِل کی سیاہی سے
Comments
Post a Comment