غزل - سبک رفتاری
ذِکر اُن کا رات بھر چلتا رہے اَبھی سحر نہ کر
کلام اُن کا مرے دوست اِ تنا بھی مختصر نہ کر
آنکھیں بچھا رکھی ہیں اک مدت سے تیری راہ میں
چاہے تو قبول کرلے چاہے تو مجھ سے دَرگزرنہ کر
اپنوں میں کس طرح کرو گے ہار جیت کا فیصلہ
اے منصف ٹھہر ذرا اِس مہم کو ابھی سر نہ کر
دھن کا نشہ وہم ہے تیرا اور یہ دولت ہے گمان
اتنا یقین مرے نا دان دِل وہم و گمان پر نہ کر
حسب و نصب کا مسلہ بڑھتے قدم نہ روک لے
مری جان جاناں اِن پرپیچ راہوں میں گھر نہ کر
اِتنی تو مہلت دے کہ اُن سے ہم کلام ہوسکوں
زندگی اسطرح سبک رفتاری سےمجھے بسر نہ کر
اے غوری یہ چاہت ربِّ کریم کی عنایت ہے
یوں بے کار ضد میں منتشر اپنے بال و پر نہ کر
Comments
Post a Comment