غزل - میانہ روی
میں ہوں بہت غریب مگر اپنے مال سے
خوش ہوں کہ ہوں امیر ابھی دل کے حال سے
مشکل میں ڈالا لقمۂ تر کی تلاش نے
کتنا سکوں تھا ملتی تھی جب ہم کو دال سے
ہوتا ہے اعتماد جنھیں اپنے آپ پر
کیا ان کو کوئی واسطہ دستِ سوال سے
لازم ہے ہر قدم پہ ہو کردار کا خیال
انساں پرکھا جاتا ہے خود اپنی چال سے
کوئی کسی کا درد یہاں بانٹتا نہیں
حاصل نہ ہوگا کچھ تمہیں حُزن و ملا ل سے
جو سر چڑھ کے بولتا ہے، ہے یہ وہ نشہ
آذاد ہوسکے نہ ریالوں کے جال سے
کوئی روش میانہ روی سے بھلی نہیں
تم زندگی گزارو مگر اعتدال سے
غوری میں ایک عام بشرکی طرح سے ہوں
یعنی حزیں تھا ہجر سےشاداں وصال سے
Comments
Post a Comment