غزل - وطن پیارا وطن
ہر رنگ ہے حسین گلُوں سے سجائیں گے
اپنے وطن کو رشکِ اِرم ہم بنائیں گے
وہ خواب رہ گئے ہیں جوتعبیرکے بغیر
ہم اُن تمام خوابوں کی تعبیر پائیں گے
قُربانیوں سے بھی نہ کریں گے کبھی دَریغ
اِس کیلئے ہم اپنے دل و جاں لُٹائیں گے
جو راہنما ہمارے محبِ وطن نہیں
اب اور ہم فریب میں اُن کے نہ آئیں گے
آپس میں بن کے شِیر و شکر اب رہیں گے ہم
اِک دوسرے کا خُون نہ ہرگز بہائیں گے
جانِ عزیز سے بھی سِوا تو عزیز ہے
ہم تیری آن پر سدا قربان جائیں گے
گایا کریں گے تیری محبت کے گیت ہم
عظمت کے تیری سب کو ترانے سنائیں گے
دنیا میں تو ہمارے لئے اِک شناخت ہے
ہم نے جو تجھ سے عہد کیا ہے نبھائیں گے
اِسلاف نے جو چھوڑے ہیں اپنے نشانِ پا
غوری ہم اُن کو راہ کی مشعل بنائیں گے
Comments
Post a Comment