غزل - چاندی کی زنجیر



خیالوں میں تم کو میں لاؤں تو کیسے
تمہیں میں اپنا  ہم  دم  بناؤں تو کیسے​

میں پردیس میں آکے بے دست و پا ہوں
کہ   رسم ِ  وفا   اب   نبھاؤں  تو  کیسے

مٹایا  ہے  فکرِ  معیشت  نے  دل  کو
مسائل سے خود کو بچاؤں تو کیسے

شکستہ   دلی   کا   مداوا   نہیں  کچھ
چراغاں سے محفل سجاؤں تو کیسے

بھلا  فون  پر  ہو ملاقات کیوں کر
میں تسکین ِ دل آج پاؤں تو کیسے

رہا فرق اپنوں میں غیروں میں کیا اب
میں  احوال  دل  کا  سناؤ ں تو کیسے

میرا  حال  دل میرے رُخ پر لکھا ہے
جدائی کے صدمے چھپاؤں تو کیسے

نشاں تیری یادوں کے جو پڑ گئے ہیں
اسے  ذہن و دل سے  مٹاؤں تو کیسے

ہے  پاؤں  میں چاندی  کی زنجیر غوری
رہائی  میں  اب  اس سے پاؤں تو کیسے

Comments

Popular posts from this blog

نظم - ترا انتظار

غزل - چین جانے کے لئے

غزل - سبک رفتاری