طرحی غزل - سکون قلب



جیسے  فلک  سے  ٹوٹ  کے تارے نہ جائیں گے
پلکوں سے یونہی اَشک کے دھارے نہ جائیں گے

         کہتے  رہیں  گے  بات   سدا  اپنے  دِل  کی  ہم
         "جب تک غزل رہے گی اِشارے نہ جائیں گے"

کچھ اِس طرح سے نقش ہوئے ہیں کہ اب کبھی
آنکھوں سے اِس مِلن کے نظارے نہ جائیں گے

         غم میں  بھی  ہوگا جن  کو  میسر  سکونِ  قلب
         خوشیوں کے اُن سے دور کنارے نہ جائیں گے

یہ  سوچ  کر اُٹھائے ہیں ہم  نے کسی  کے ناز
گیسو اُلجھ   گئے   تو  سنوارے  نہ جائیں گے

         پروانے  بھول جائیں گے کیا عشق کا چلن
         اپنی حیات  شمع  پہ  وارے  نہ جائیں گے

کچھ لوگ ہوگئے ہیں جو اوقات  سے  بلند
کوہ  ِغرور  سے وہ اُتارے نہ  جائیں گے

         یہ  مسئلہ  معاش  کا   کب  تک  نہ  ہو  گا   حل
         کب تک گھروں کو ہم سے بچارے نہ جائیں گے

جیتیں گے جب تلک نہ وہ غوری ہمارا دل
دِلبرکسی طرح  سے پکارے نہ جائیں گے

Comments

Popular posts from this blog

نظم - ترا انتظار

غزل - چین جانے کے لئے

غزل - سبک رفتاری