طرحی غزل - جذبہ ایمان
جذبہ ایمان کا سینے میں اگر ہوتا ہے
وقت اوروں کی بھلائی میں بسر ہوتا ہے
یہ جو ہر ذرّے میں پوشیدہ شرر ہوتا ہے
اس سے آگاہ فقط اہلِ نظر ہوتا ہے
ہر بشرکے لئے ممکن نہیں انساں ہونا
یوں تو دنیا میں ہر انسان بشر ہوتا ہے
تیری قدرت ہے فقط ورنہ یہ آب نیساں
"سیپ کی کوکھ میں پل کر ہی گہر ہوتا ہے"
ذہن پر فہم و فراست کے مطابق ہی سدا
صاحب ِ علم کی صحبت کا اثرہوتا ہے
رنج کے بعد خوشی آتی ہے ایسے جیسے
شب کے پردے سے عیاں نورِسحر ہوتا ہے
جھوٹ پھر جھوٹ ہے مِٹنا ہے مقدر اس کا
سچ کا آخر میں مگر میٹھا ثمر ہوتا ہے
خوب جی بھر کے لہو دل کا پلاتا ہوں اسے
یوں توانا مری الفت کا شجر ہوتا ہے
میری غزلوں میں وہ نام آتا ہے ایسے غوری
جلوہ گر جیسے ستاروں میں قمر ہوتا ہے
Comments
Post a Comment