غزل - نظام عدل
اُمراء برسبیلِ تحقیقات نہیں
اَشرافیہ زدِ احکامات نہیں
درُشتگی کا سامان کون کرے
کوتوال کی یہ اوقات نہیں
ملزم کو ملیں نت نئے پکوان
زندان میں مشکلات نہیں
ایئر کنڈیشنراور ہیٹر ملیں
دریچوں کی باقیات نہیں
بدی کو سب ہی برا کہیں
مگر اشتیاقِ جذبات نہیں
اللہ کے نظامِ عدل میں
کوئی قاضیِ حاجات نہیں
ذرا ہوش کے ناخن لیجئے حضور
اب پہلے سے حالات نہیں
بھپر جائے اگر کوئی رُت
آشیانوں کی کوئی اوقات نہیں
پرندوں نے رختِ سفر باندھا
یہ چند دانوں کی بات نہیں
سنبھل کر رہنا ایامِ تلخی میں
سکون درونِ محلات نہیں
یاد رہے بادِ صبا کے متوالو!
صبح کا نعمُ البدل رات نہیں
Comments
Post a Comment