غزل - خلیل اللہ
طے بہ آسانی کئے سب مرحلے تسلیم کے
درج ہیں قرآن میں اوصاف ابراہیم کے
جس نے قربانی پہ اُکسایا تھا اسمعیل کو
آج بھی چرچے ہیں دنیا بھر میں اُس تعلیم کے
ہوسکی نہ کارگر اِبلیس کی اِک چال بھی
باپ اور بیٹے نہ تھے قائل اُمید و بِیم کے
جانتے تھے لذّت ِعشقِ خدا کیا چیز ہے
تھے دیئے روشن دلوں میں حرمت و تحریم کے
ہیں اَحد میں اور احمد میں نشانِ افتراق
یہ جو پردے سے پڑے ہیں ایک حرف ِمیم کے
طُور خاکستر ہوا موسی کو بھی غَش آ گیا
کہہ رہے ہیں بات یہ ذرّے بھی اُس اقلیم کے
فضل ِ رب ینبع میں غوری اس طرح مجھ پر ہوا
گرمیوں میں جیسے راحت بخش سائے نیم کے
Comments
Post a Comment