غزل - آتش عشق
راز یہ اہل ِ محبت پہ عیاں ہوتا ہے
لمحۂ ہجر صدی سے بھی گراں ہوتا ہے
جس کے سینے میں محبت کی لگن ہوتی ہے
وہیں جاتا ہے وہ محبوب جہاں ہوتا ہے
اس طرح تم مری آنکھوں میں بسے رہتے ہو
مجھ کو ہر اک پہ تمہارا ہی گماں ہوتا ہے
اپنا احوال بتاؤ مری روداد سنو
دل جو مل جائیں تو پھر فرق کہاں ہوتا ہے
ہو سرِ راہ ملاقات یہ امکان نہیں
ہاں مگر شوق یہ خوابوں میں جواں ہوتا ہے
آتش ِ عشق کا انداز جُدا ہے سب سے
شعلے اُٹھتے ہیں کہیں پر نہ دُھواں ہوتا ہے
میرے ہونٹوں پہ مچل اٹھتا ہے اک نامِ حسیں
اس طرح فاش مرا سِرّ نہاں ہوتا ہے
ڈھونڈنےسے بھی نہیں ملتامجھےاس کا سراغ
موجۂ برقِ تبسم وہ کہاں ہوتا ہے
دُور رہ کر کبھی بڑھتی ہے محبت غوری
اور کبھی قرب میں اُلفت کا زیاں ہوتا ہے
Comments
Post a Comment