غزل - عظمتوں کا نشاں
عشق جب دل میں نہاں ہوتا ہے
عکس چہرے پہ عیاں ہوتا ہے
سخت تر ہوتا ہے آغازِ سفر
پھر وہ دُشوار کہاں ہوتا ہے
حق کی آواز جو کرتا ہے بلند
عظمتوں کا وہ نشاں ہوتا ہے
مشعل ِ علم و ہنر کے باعث
روشنی خیز سماں ہوتا ہے
دل کو دیتی ہے محبت جو سکوں
وہ مرے فن میں بیاں ہوتا ہے
اپنی محنت پہ یقیں ہے جن کو
عزم ان سب کا جواں ہوتا ہے
ایک کہرام مچا ہے غوری
کیا یہی امن و اماں ہوتا ہے
Comments
Post a Comment