غزل - اعجازِ طلسم
تم جو مسکرائےشگوفوں کو تبسم ملا
تم جو گنگنائے نغموں کو ترنم ملا
تم جو گلشن میں جلوہ افروز ہوئے
سہمے ہوئے گلوں کو اُذنِ تکلم ملا
تم جو برسات میں کیا نکلے
پرکشش نظاروں کواعجازِ طلسم ملا
تم سے گفتگو نے یوں سمیٹا مجھے
میری بکھری ہوئی سوچوں کوفہم ملا
تم روح سے بدن میں یوں سمائے
جیسے ماٹی کی مورت کو جسم ملا
تم آ جاؤ تو دِل دھڑکنے لگے یوں
جیسے صحرا کے مجنوں کوصنم ملا
تمہارے الفاظ ہیں کہ جل ترنگ
چاند سے اُجلی آبشارکو ترنم ملا
تم سے مل کر سب مندمل ہوگئے
تم جو رُخصت ہوئے پھر نیا زخم ملا
قحط سالی کے سبب قطرہ نہ بچا
اہلِ یزداں کو مگر پورا تیمم ملا
Comments
Post a Comment