غزل - جرم محبت
یوں تو ہر اِک سے شناسائی ہے
پھر بھی گھیرے ہوئے تنہائی ہے
کوئی پُرساں نہیں حالِ دل کا
مجمع ِ عام تماشائی ہے
خوابِ غفلت میں پڑے ہیں جو بھی
اُن کی تقدیر میں پسپائی ہے
ہے یہی جرمِ محبت کی سزا
لوگ کہتے ہیں کہ سَودائی ہے
چُھپ نہیں سکتی چُھپانے سے بھی
عشق اِس قسم کی سچّائی ہے
اس نے کَلیوں کے تبّسم کی طرح
نَرم خوئی کی ادا پائی ہے
آسماں پر ہے دھنک کا پَر تو
یا کسی شوخ کی انگڑائی ہے
وہ بھلا رسمِ وفا کیا جانے
فِطرۃ ً وہ کوئی ہر جائی ہے
کل کی اُمیدیں ہیں بچےغوری
تیز اُن سے مری بینائی ہے
Comments
Post a Comment