نظم - زندگی
دل لگی جو نہاں نہ ہوسکی
دل بستگی جو عیاں نہ ہوسکی
وابستگی جو بیاں نہ ہو سکی
وارفتگی جو آسماں نہ ہو سکی
ملاقاتیں جو سر شام رہ گئيں
باتیں جو لب بام رہ گئیں
آنکھیں جو برسات بن کے ٹپکیں
راتیں جو تیرے خیال میں کٹیں
ساعتیں جو شمع دل بجھاتی رہیں
برساتیں جو آ تش عشق سلگاتی رہیں
ہزاروں جذبے ایسے ہیں
جو خدا نے ودیعت کئے،
پنپتے، سلگتے، مچلتے،
بے اختیار و بے محار،
نٹ کھٹ و جیالے جذبات،
جوش خون میں منتشر خیالات
کبھی حوصلہ دے نفس لوامہ کی بات
کبھی حوصلہ بڑھائے امارہ کی خرافات
یہ سلسلہ پیار ہے تلاش یار ہے
بوئے گل ہے موسم بہار ہے
جام جم ہے جام ہستی ہے یا خمار ہے
یا بین السطور جل جلال کا اظہار ہے
خود نمائی ہے خود سرائی ہے
خود پیرائی ہے خود ثنائی ہے
خود سپردگی ہے خود ستائی ہے
یا پھر محض اک انگڑائی ہے
اک جذبہ بے لوث چاہت کا
با ادب اور لطف و عنایت کا
حق و صداقت کا
ادراک و بلاغت کا
جس میں لمس ضروری نہیں
تکمیل ہوس ضروری نہیں
وعدہ شب بس ضروری نہیں
قید ایام و برس ضروری نہیں
یہ انعام و اکرام ہے
دور دور سے چاہنے کا
اپنوں کو چاہو غیروں کو چاہو
سب کو چاہو رب کو چاہو
اور سارے جگ کو چاہو
ہنستے رہو مسکراتے رہو
خوش رہو خوشیاں لٹاتے رہو
طلب دنیا کو دل سے مٹاتے رہو
زندگی آغاز انقلاب ہے
زندگی طلوع آفتاب ہے
کھلتا ہوا گلاب ہے
یعنی کار ثواب ہے
اسے حرارت ایماں سے گرماتے رہو
بوئے وفاء سے ہر دم مہکاتے رہو
شبنم الفت سے نہلاتے رہو
حسن عمل سے سجاتے رہو
چاہو سب کو اور جی بھر کے چاہتے رہو
سفیر خوشبو بن کر دنیا کو مہکاتے رہو
کتنے لمحے بیت گئے تنہائی میں
کبھی حسیناؤں کی بے وفائی میں
کبھی زمانے کی بے پروائی میں
کبھی خود سوزی کبھی خود ستائی میں
جو بچ رہے دوسروں میں بانٹتے رہو
کہ نفرتوں میں وقت گزرتا نہیں
ابر جفاء چھٹتا نہیں
گل وفاء کھلتا نہیں
خورشید تمناء ابھرتا نہیں
پھر کیوں نہ ہر لہذاء
ہر گھڑی ہر پل
ہر لمحہ ہر ثانیہ
محبتوں میں گزارا کرو
کہ عادت فرض شناس رہے
محرم و نامحرم کا پاس رہے
پیام خلوص کی آس رہے
خیر و شر کا احساس رہے
کہ جسم سے پیار پیار نہیں
روح سےروح ملایا کرو
چراغ الفت جلایا کرو
ہنس کر زندگی بتایا کرو
نغمے محبت کے گایا کرو
وسوسوں اور کج روی نے
حیات کو زنداں میں ڈالا
جو عزیز از جاں تھا
وہی گریزاں ہونے لگا
یہ گریز یہ پرہیز بالآخر
نفرتوں میں ظاہر ہونے لگا
مگر میں تو تمہارا عزیز ہوں
رفتار الفت کی مہمیز ہوں
باب وفاء کی دہلیز ہوں
لفظ چاہ کی فرہنگ دبیز ہوں
پھر کیوں ہر لمحہ ہر گام
نالاں رہتے ہوں تم
میں جو قریب آؤں
تم اجتناب کرتے ہو
سوال جواب کرتے ہو
حالت خراب کرتے ہو
اور کبھی کبھی آب آب کرتے ہو
کیا غیر بھی اپنے ہوا کرتے ہیں
دکھ درد میں شامل ہوا کرتے ہیں
چشم تر کے ہمدرد ہوا کرتے ہیں
وہ تومحض اک جلوہ گر ہوتے ہیں
فتنہ پرور ہوتے ہیں
تماشہ گر ہوتے ہیں
حسن کے سوداگر ہوتے ہیں
دور دور سے ہاتھ ہلاتے رہے
لمحہ بھر ہنس کر ملے
اور عمر بھر رلاتے رہے
پھر بھی غیروں میں
اگر تم بسنا چاہو
جیتے جی مرنا چاہو
ہمیں کوئی عار نہیں
ہم راہ کی دیوار نہیں
ہم عاشق ہیں بدکار نہیں
ہم آستیں کی کٹار نہیں
لیکن ہر نفس، تجربہ چاہتا ہے،
بازی لے جانا چاہتا ہے
سرخرو ہو جانا چاہتا ہے
بال و پر دکھانا چاہتا ہے
پر کون کسی کو سمجھائے یارو
روٹھے کو منائے یارو
دل کیسے بہلائے یارو
صدمہ کون اٹھائے یارو
تاریخ بھی استاد ہے
ہر ضرورت کی ا یجاد ہے
چاہو تو سبق لے سکتے ہو یار
ورنہ وقت کا دھارا
بہالے جائے گا تمہیں
ناعاقبت اندیشی میں
عدالت کی ہر پیشی میں
ہچکولوں کے دوش پر
بہت مہنگا پڑے گا
کوئی بھی تجربہ
زندگی کی گاڑی کو
ناہموار راہوں پر
کج روی نگاہوں پر
نیم شب کی آہوں پر
شل ہوئی سی بانہوں پر
دوڑایا نہیں کرتے
یہ زندگی حسن و جمال کا موقع ہے
یہ زندگی فکر و خیال کا موقع ہے
ہجر و وصال کا موقع ہے
نشاط و نہال کا موقع ہے
زندگی کو ہمیشہ
احساس کے تاروں میں رہنے دو
ہم جیسے شب گزاروں میں رہنے دو
یہ ڈولی ہے اسے کہاروں میں رہنے دو
چمن کے پھول ہیں ہم
چمن زاروں میں رہنے دو
کل کبھی نہیں آئے گا
کس نے دیکھا ہے کل
آنے والا کل ۔۔۔۔پھر
کل پر ٹل جائے گا
کیوں نہ آج کو ہم اپنا سمجھیں
کیوں نہ سب کو ہم اپنا سمجھیں
دل فقط چاہنے کیلئے ہوتا ہے
دلوں میں محبتوں کا چرچا ہوتا ہے
دل میں اگر نفرت بغض اور عناد
گھر کر جائیں تو پھر
کروٹیں لیتی ہے حیات
دہکتے ہوئے انگاروں پر
اور انجام برا ہوتا ہے
میں کیوں نہ دل صاف کرلوں تجھ سے
اور تو بھی گلے لگا لے مجھ کو
اس دور غر یباں میں
انسان کو میسر نہیں انساں
پھر سکون قلب کہاں
اور راحتیں کہاں
تم کہ متلاشی ہو صبح کے
اور چشم دل رکھتے ہو بند سدا
کبھی اک دن کے لئے سہی
کیوں میری بات مانتے نہیں
کیوں میری التجاء مانتے نہیں
بس ا تنی عرض ہے کہ تم
بس اتنی غرض ہے کہ تم
صرف اک لمحے کے لئے
رک جاؤ کبھی۔۔۔۔۔۔۔۔
Comments
Post a Comment