Popular posts from this blog
غزل - چین جانے کے لئے
یوں تو اکثر یاد آتی ہے ستانے کے لئے کاش اک دن وہ بھی خود آئیں منانے کے لئے آج تک اپنے لئے تو جی لئے اے ہم نشیں دیکھ لیں کچھ روز جی کر ہم زمانے کے لئے خاک ہوکر رہ گئے حاسد کے جتنے عزم تھے تھا بضد محسود کو اپنے مٹانے کے لئے کیا ضروری ہے کہ میرے قتل کے اسباب ہوں ہیں تیرے جورو سِتم کافی مٹانے کے لئے وہ کسی دن اس میں خود گر جائیں گے جو گڑھے کھودیں گے اوروں کو گرانے کے لئے ہر قدم رکھو سنبھل کر خود ہی ورنہ دوستو کون آتا ہے کسی کو بھی بچانے کے لئے چاہتا ہوں س...
غزل - سبک رفتاری
ذِکر اُن کا رات بھر چلتا رہے اَبھی سحر نہ کر کلام اُن کا مرے دوست اِ تنا بھی مختصر نہ کر آنکھیں بچھا رکھی ہیں اک مدت سے تیری راہ میں چاہے تو قبول کرلے چاہے تو مجھ سے دَرگزرنہ کر اپنوں میں کس طرح کرو گے ہار جیت کا فیصلہ اے منصف ٹھہر ذرا اِس مہم کو ابھی سر نہ کر دھن کا نشہ وہم ہے تیرا اور یہ دولت ہے گمان اتنا یقین مرے نا دان دِل وہم و گمان پر نہ کر حسب و نصب کا مسلہ بڑھتے قدم نہ روک لے مری جان جاناں اِن پرپیچ راہوں میں گھر نہ...
Comments
Post a Comment