غزل - پھول جھڑتے ہیں


عزیز و اقربا کے ساتھ  رہ  کر  جو  اکڑتے  ہیں
وہی  غیروں  کے  آگے اپنی پیشانی رگڑتے ہیں

    بُھلا دیتے ہیں محسن کو یہ کم ظرفوں کا شیوہ ہے
    نہیں ہوتا  کوئی  اَڑنے کا موقع پھر بھی اَڑتے ہیں

تڑپ ہوتی ہے جن کے دل میں ساحل پر پہنچنے کی
وہ آخر وقت تک طوفان کی موجوں سے لڑتے ہیں

       ذرا سی بھی کمی رہتی ہے جن کی  آبیاری   میں
      شگوفے کھل نہیں پاتے درختوں ہی پہ سڑتے ہیں

بزعم خود کسی کو بھی نہیں لاتے  وہ   خاطر   میں
خدا   آتا   ہے   ان   کو   یاد   جب  بیمار  پڑتے ہیں

    گزر جاتے ہیں اپنی حد سے بے حس اور کوئی غم نہیں ہوتا
    زمیں  میں   صاحبِ احساس   ہی   غیرت   سے  گڑتے  ہیں

کروں کیا تذکرہ میں ان کی خوش گوئی کا اے  غوری
یہی محسوس ہوتا  ہے کہ منہ سے پھول  جھڑ تے  ہیں

Comments

Popular posts from this blog

نظم - ترا انتظار

غزل - چین جانے کے لئے

غزل - سبک رفتاری