طرحی مصرعہ - آب و دانہ
مقام ا ُس کی بلندی کا کس نے جانا تھا
"ہر ایک چشمہ اُسی کی طرف روانہ تھا"
دِل و نِگاہ میں رہتا تھا کوئی رُوپ سَدا
شباب کا وہ زمانہ بھی کیا زمانہ تھا
وہ کون تھا کہ رہا سایۂ ھمُا جس پر
کہ رحمتوں کا بھی اُس سر پہ شامیانہ تھا
تمام شہر میں نفرت کی چل رہی تھی ہوا
سِتم کے تیر کا ہر آدمی نشانہ تھا
تمام وار کئے اس نے بُزدلوں کی طرح
اگر جری تھا تو سامنے بھی آنا تھا
ملا میں جس سے بھی موضوعِ گفتگو تھا وہی
جدھر گیا میں اُسی شوخ کا فسانہ تھا
ہزار کوششیں کرتا رہا ہوں میں غوری
مِلا وہی جو مُقدر میں آب و دانہ تھا
Comments
Post a Comment