غزل - عبدالوہاب
تیری فلاح کے لئے پھرتا ہوں کُو بکُو
دن رات مجھ کو رہتی ہے منزل کی جستجو
ہر لمحہ میرے ذہن میں تیرا خیال ہے
میں چاہتا ہوں تجھ کو رکھوں اپنے رُو برُو
تو میرے دل کا چین ہے آنکھوں کا نور ہے
تو میری زندگی کے لئے مثل ِ رنگ و بو
ہوتا ہوں میں نہال تجھے دیکھ دیکھ کر
آنکھوں کی پیاس بجھتی ہے بے بادہ و سبُو
تیری شرارتوں پہ مرا دل نثار ہے
تو خوش رہے سدا ہے یہی میری آرزُو
ساری بہارِ زیست تیر ے دم قدم سے ہے
محور ہے چاہتوں کا اے عبدالوہاب تو
موجود تجھ میں ہیں مرے بچپن کی جھلکیاں
کہتے ہیں لوگ تو ہے مرا عکس ہو بہو

Comments
Post a Comment