غزل - مشک عنبر
تم مشکِ عنبر ہو
تم رشکِ سمندرہو
تم شیر یں کلام ہو
تم کلامِ مکرر ہو
تم چاند نی رات ہو
تم حسین منظر ہو
تم عنوانِ بدر ہو
تم آئینہ قمر ہو
تم اُجلا ہوا سویرا ہو
تم سنگِ مرمر ہو
تم قوسِ قزاح ہو
تم سامانِ ابر ہو
تم راحتِ جان ہو
تم سایہ شجر ہو
تم قرارِ دل ہو
تم امید کا پیامبر ہو
تم کواور کیا کہوں
تم مرے ہمسفر ہو
Comments
Post a Comment