غزل - خیال و فکر کے پھول
سدا جو دین کے پردے میں کفر کرتے ہیں
وہ لوگ ہم نے بہت زندگی میں برتے ہیں
رہے ہیں جن کی سدا ٹھوکروں میں تخت و تاج
بھکاریوں کی طرح راہ سے گزرتے ہیں
وہ ناخدا جو نہیں ہوتے پختہ کار و ذہین
سفینے ان کے بھلا پار کب اترتے ہیں
دکھا رہا ہے یہ روزِ سیاہ وقت ہمیں
کہ روز جیتے ہیں ہم اور روز مرتے ہیں
جو عقل و ہوش سے کچھ کام تک نہیں لیتے
انھیں کے جوہر و اوصاف کم ابھرتے ہیں
جنھیں ملا نہ ترا قرب وہ تیرے غم میں
ملول رہتے ہیں اور سرد آہ بھرتے ہیں
خدا کی ذات پہ کامل یقیں نہیں جن کو
مشاہدہ ہے وہ سائے سے اپنے ڈرتے ہیں
نگاہ کہتی ہے دیکھوں حسین منظرِ صبح
نہا کے اَوس میں جب باغ و بن نکھرتے ہیں
ورق ورق نظر آتا ہے اک چمن غوری
خیال و فکر کے جب پھول کچھ سنورتے ہیں
Comments
Post a Comment