غزل - جستجوئے گلاب
دن بھر جستجوئے گلاب میں رہنا
رات بھر جستجوئے مہتاب میں رہنا
نسبت ہے اُس کی شہرِ مردان سے
اور مجھے پسند ہے پنجاب میں رہنا
قربت میں راحت ہے اِسطرح جیسے
موتی کی طرح دیدہء پر آب میں رہنا
شوقِ دید میں بند رکھتا ہوں آنکھیں
غافل نہ ہوجاؤں اِس خواب میں رہنا
خوشی کا راز اِس طرح افشاء ہوا مجھ پر
منتظر ای میل کے جواب میں رہنا
ڈرتا ہوں راہ سے بھٹک نہ جاؤں
اچھا ہے منبر و محراب میں رہنا
مقدم ہو اس کی پسند ہر فیصلے پر
غوری عشق کے آداب میں رہنا
Comments
Post a Comment