غزل - جذبۂ صادق
ایک ہے مذہب ہمارا ایک ہی قرآن بھی
کاش اکثر لوگ ہوتے صاحبِ ایمان بھی
آج کے خونی مناظر، بھائی دشمن بھائی کا
تھے وہ یوسف کے برادر، تھے مگرانسان بھی
میں نے جب دیکھا مرے مدِّ مُقابل دوست ہے
ہار بھی پیاری لگی، اچھا لگا نقصان بھی
جذبۂ صادق نہ ہو تو کام کچھ آتا نہیں
پاس میں ہوخواہ کتنا ہی سروسامان بھی
اب دعائیں تک ہماری ہوگئی ہیں بے اثر
لائے ہیں اعمال بد یہ ظلم کا طوفان بھی
حال پتلا کر دیا ہے ان دنوں مہنگائی نے
اب مصیبت کی طرح لگنے لگے ہیں مہمان بھی
عمر پیری کی نہیں ہے پھر بھی یہ عالم ہوا
وقت سے پہلے خطا ہونے لگے ہیں اوسان بھی
شیطنت کا اس کی اندازہ لگا سکتے ہیں آپ
جب پنہ مانگے بشر سے آکے خود شیطان بھی
کوئی اے غوری کرے سعئ مسلسل تو ضرور
مشکلیں راہوں کی ہوجاتی ہیں سب آسان بھی
Comments
Post a Comment