غزل - عرض تمنا
دل میں بے لوث جو خدمت کی لگن رکھتے ہیں
لوگ وہ عظمتِ انساں کا چَلن رکھتے ہیں
ہے کوئی بات جو خاموش ہیں ورنہ ہم بھی
لفظ رکھتے ہیں، زباں اور دہن رکھتے ہیں
منتخب ہم نے کیا حُسن سلیقے سے بہت
ہم بھی پھولوں کی طرح اپنا سجن رکھتے ہیں
سوسن و نرگس و لالہ و چنبیلی و گلاب
سادہ ہوتے ہیں پہ رنگین بدن رکھتے ہیں
میں پریشان نہیں عرضِ تمنّا کے لئے
میرے جذبات اِک اندازِ سُخن رکھتے ہیں
بے ضرورت جو بہاتے ہیں جوانوں کا لہو
دور وہ فصلِ بہاراں سے چمن رکھتے ہیں
بات ہو ارضِ وطن کی، کہ بیاں ملّت کا
درد سینے میں نہاں اہل ِسخن رکھتے ہیں
کون ایسوں کو مٹا سکتا ہے جو لوگ یہاں
سرسے باندھے ہوئے ہر وقت کفن رکھتے ہیں
گنگناتے ہوئے دریا ہوں کہ بادل غوری
یہ مناظر دلِ شاعر کو مگن رکھتے ہیں
Comments
Post a Comment