غزل - جنونِ عشق
تمام راہنما ہیں شکاریوں کی طرح
بنا چکے ہیں ہمیں جو بھکاریوں کی طرح
وہ ہم سے دُور رہے یوں سَراب ہوں جیسے
جنونِ عشق ہمیں ہے شکاریوں کی طرح
کبھی وہ جگنو، کبھی ماہ ِ نَو دکھائی دیئے
پڑی ہے ہم سے عجب خوش نگاریوں کی طرح
ہمارا دل بھی کسی پھول جیسے چہرے سے
مہک رہا ہے گلوں کی کیاریوں کی طرح
قرار آ گیا دل کو تمہارے آنے سے
نہیں تو زخم ِ جدائی تھا آریوں کی طرح
غم ِ فراق، نہ خوف ِ وصال کچھ بھی نہیں
کہ زندگی ہے مری اب پجاریوں کی طرح
ہمارے ملک میں غوری سیاسی بازی گر
دکھا رہے ہیں تماشہ مداریوں کی طرح
Comments
Post a Comment