غزل - بحر تمنا
معمور ہیں جو دل بھی مشقت کی طلب سے
کیا اُن کو کوئی سروکارعیش و طرب سے
مقبولیت عام جو مطلوب ہے اے دوست
لازم ہے رہو دُور سدا فخر نسب سے
دیکھا ہے عقیدت کی نظر سے جنھیں سب نے
معروف ہیں کردار کی عظمت کے سبب سے
اقبال کے سورج کی شعاعوں کا نظارہ
ہوتا ہے مگر جوہرِ ذاتی کے سبب سے
دل بحر تمنا میں اتر جائے تو غوری
بچتا نہیں طوفان کی موجوں کے غضب سے
Comments
Post a Comment